بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایران میں فلسطین کی تحریک جہاد اسلامی کے نمائندے ناصر ابو شریف نے کہا:
ـ تہران کے میدان فلسطین میں بدھ 7 اکتوبر سنہ 2026ع کی شام، منعقدہ، شہیدِ مقاومت میجر جنرل پاسدار محمد سعید ایزدی المعروف "الحاج رمضان" کے مجسمے کی رونمائی کی تقریب میں فلسطین پر قابض دشمن کے خلاف جنگ کی تاریخی جہات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
• 7 اکتوبر کا آپریشن صرف ایک وقتی اقدام یا محدود فائرنگ کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ غاصب صہیونی رجیم کے خلاف سب سے بڑی تاریخی جنگ کا تسلسل ہے؛ یہ ایک ایسی قوم کی 100 سالہ مزاحمت سے پیدا ہونے والا ایک تاریخی جواب، جو ایک صدی سے نسل کشی، تباہی اور اپنی سرزمین کے منظم غصب کے دباؤ کے باوجود کھڑی ہے۔

طوفان الاقصیٰ اور مغربی ابلاغیاتی کے جادو کا بطلان
• مغرب کی پروپیگنڈہ مشین فرعون کے جادوگروں سے حیران کن حد تک مشابہت رکھتی ہے۔ مغربی طاقتوں نے دہائیوں تک حقیقت میں تحریف کرکے، جعلی اسرائیل رجیم کو مغربی ایشیا میں 'جمہوریت اور ایک مظلوم ریاست' کی علامت کے طور پر متعارف کرانے کی کوشش کی؛ لیکن طوفان الاقصیٰ نے ایک زبردست زلزلے کی طرح ان تمام جھوٹے دعوؤں کی زبردستی تعمیر کی ہوئی عمارت کو پاش پاش کر دیا۔
• اس جنگ کا آغاز ہوتے ہی، واشنگٹن اور یورپی دارالحکومتوں ـ لندن، پیرس اور برلن ـ کی فوری صف آرائی نے بھی ثابت کر دیا کہ تل ابیب کوئی آزاد سیاسی ڈھانچہ نہیں، بلکہ خطے کی تقدیر پر تسلط کے لئے مغرب کے استعماری پراجیکٹ کے تیر کا سرا (Arrowhead) ہے۔
غزہ اور یوکرین میں مغرب کے دوہرے معیار کی رسوائی
• بین الاقوامی انسانی حقوق کے دعویداروں کے درمیان کھلی منافقت پائی جاتی ہے؛ آپ جب یوکرین کی جنگ اور غزہ کے انسانی المیے کے بارے میں مغربی رویے کو دیکھتے ہیں تو واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ مغرب کے دوہرے معیار بالکل بے نقاب ہو گئے ہیں۔
• مغربیوں نے یوکرین کے اپنی سرزمین کے دفاع کو جائز حق اور قبضے کے خلاف فلسطینیوں مزاحمت کو دہشت گردی قرار دیا اور جیسے ہی فلسطینی قوم نے اپنی مادرِ وطن کی آزآدی کے لئے ہتھیار اٹھائے، تو انہیں دہشت گرد کہہ دیا!
• فلسطینی مزاحمت نے روایتی مادی سازوسامان پر انحصار کئے بغیر اور صرف ایمانِ الٰہی اور میدانی مجاہدت کے سہارے ان منافقانہ دعوؤں کو چیلنج کیا۔

شہید الحاج رمضان؛ تہران اور قدس کے درمیان ربط کے معمار
• اسلامی جمہوریہ ایران اور محور مقاومت (محاذ مزاحمت) کے کمانڈروں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے؛ اکسیویں صدی کے کے پہلے عشرے سے، واحد طاقت جو سیاسی، مادی اور اسٹراٹیجک وسائل کے ساتھ فلسطین کے مقصد کے پیچھے کھڑی رہی ہے، اسلامی جمہوریہ ایران ہے۔ شہید الحاج قاسم سلیمانی اور شہید الحاج رمضان جیسے کمانڈروں کا نام اس محاذ کی جبین پر چمک رہا ہے؛ جیسا کہ جہاد اسلامی کے سیکرٹری جنرل 'ڈاکٹر زیاد النخالہ' نے فرمایا: "الحاج رمضان فلسطین میں ایران اور ایران میں فلسطین کی مجسم داستان ہیں [جو فلسطین میں ایران کے نمائندے اور ایران میں فلسطین کے نمائندے ہیں]۔
• میجر جنرل پاسدار شہید سعید ایزدی (الحاج رمضان) مختلف مزاحمتی گروہوں کی یکجہتی اور ہم آہنگی کے معمار اور اس پورے محاذ میں میدانی ہم آہنگی کے انجینئر تھے۔
• مقاومتی افواج کے ٹیکٹیکل ارتقاء، فوجی تربیت اور ساختی ہم آہنگی اس شہید کی مخلصانہ مجاہدت کی مرہونِ منت ہے، جس کا حتمی نتیجہ طوفان الاقصیٰ کے آپریشن میں آشکار ہؤا۔
• طوفان الاقصیٰ کی کاروائی وہ ضرب تھی جس نے، ـ جیسا کہ رہبرِ شہیدِ انقلاب نے فرمایا، صیہونیوں کے فوجی اور سیکیورٹی ڈھانچے پر ایک قطعی اور ناقابلِ تلافی ضرب لگائی۔
صہیونی رجیم کے حتمی زوال کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے
• صہیونی رجیم واقعی ساختی زدپذیری سے دوچار ہو چکی ہے اور آج دنیا کے نمایاں ترین نظریہ ساز اور سیاسی شخصیات بھی اس رجیم کے یقینی خاتمے کی بات کر رہے ہیں۔
• عالمی رائے عامہ، حتیٰ کہ امریکہ اور یورپ کے قلب میں بھی، جعلی رجیم کے تاریخی فریب کو پیچھے چھوڑ چکی ہے اور اس کے نازی طرز کے جرائم کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔
• تل ابیب کی طاقت کی بنیادیں اندرونی اور بیرونی سطحوں پر شدید طور پر لرز رہی ہیں اور شواہد سے عیاں ہے کہ یہ غاصب رجیم حتمی زوال کے قریب پہنچ چکی ہے اور وہ آنے والے 25 سال ہرگز نہیں دیکھے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ